بلیو ٹوتھ کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہوں گے ۔ جانیئے اس کی مختصر تاریخ

آج کل تقریباً ہر موبائل میں میں ”بلیو ٹوتھ“ ٹیکنالوجی موجود ہے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ یہ ایک وائرلیس ٹیکنالوجی ہے جس کہ ذریعے سے بغیر تار کہ (مخصوص رینج میں رہتے ہوئے) ڈیٹا شیئر کیا جا سکتا ہے ۔ یقینا بلیو ٹوتھ کے ذریعے آپ بھی دوستوں کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرتے ہوں گے لیکن کبھی آپ نے سوچا کہ بلیو ٹوتھ کے نام کے معنی کیا ہیں، اس کا نام بلیو ٹوتھ کیوں رکھا گیا اور اس کا ماخذ کیا ہے؟ بلیوٹوتھ ڈیوائس 1994ءمیں معروف ٹیلی کام کمپنی ”ایرکسن“ (Ericsson) کے سافٹ ویئرانجینئرز کی ٹیم نے ایجاد کی تھی لیکن اس کا نام 1997ءمیں بلیو ٹوتھ رکھا گیا۔ اس ٹیم کے ایک رکن جم کارڈیک 1997ءمیں فرانس جی بینگٹسن کا تاریخی ناول 
The long Ships
پڑھ رہے تھے۔ اس ناول میں قدیم ڈنمارک کے بادشاہ ہرالڈ بلیوٹوتھ کے کارنامے بیان کیے گئے تھے کہ کس طرح اس نے ڈنمارک کو متحد کرکے سلطنت قائم کی ۔

ہرالڈ بلیوٹوتھ ڈنمارک کا دوسرا بادشاہ تھا جو 935ء میں پیدا ہوا تھا۔ اس نے 958ء سے لے کر 986ء تک شاندار حکومت کی تھی ۔ یہ بادشاہ گارم دی اولڈ کا بیٹا تھا،جس کا سکہ ڈنمارک اور ناروے دونوں پر چلتا تھا لیکن اس وقت ڈنمارک مختلف قبائل میں بٹا ہوا تھا۔ ہرالڈ بلیو ٹوتھ ایک زیرک انسان تھا۔ اس نے اپنے دور اقتدار میں ڈنمارک کے منقسم اور بکھرے ہوئے قبائل کو ایک سلطنت کے تحت متحد کیا تھا۔ اسی وجہ سے بلیوٹوتھ ڈیوائس پروٹوکول کا نام اس بادشاہ کے نام پر ہی رکھا گیا تھا ۔ بلیوٹوتھ ڈیوائس بھی چونکہ ایک سے زائد ڈیوائسز کو باہم منسلک کرتا ہے، اس لئے اس کا نام ہرالڈ بلیوٹوتھ کے نام پر رکھا گیا۔ یہی نہیں بلکہ بلیوٹوتھ کا لوگو بھی ہرالڈ بلیوٹوتھ کے نام کے ابتدائی حروف کو باہم ملا کر بنایا گیا ہے۔ یہ تھی بلیو ٹوتھ کی مختصر تاریخ ۔۔۔۔۔


ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی